السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المرتد— مرتد کا بیان
باب: ما يحرم به الدم من الإسلام زنديقا كان أو غيره باب: اس اسلام کا بیان جس سے جان (خون) محفوظ ہو جاتی ہے خواہ وہ زندیق ہو یا کوئی اور۔
حدیث نمبر: 16823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ بِمَرْوَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ، ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ مِقْدَادَ بْنَ عَمْرٍو الْكِنْدِيَّ، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ إِحْدَى يَدِيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ: أَسْلَمْتُ لِلَّهِ، أَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدِيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَمَا قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ، وَأَنْتَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقداد بن عمرو کندی بدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: ”میں کسی آدمی سے جنگ میں مدمقابل ہوتا ہوں، وہ میرا ہاتھ کاٹ دے اور پھر درخت کی آڑ لے کر اسلام قبول کر لے تو کیا میں اسے قتل کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے پھر کہا: ”اے اللہ کے نبی! اس نے میرا ہاتھ کاٹا ہے، کیا میں اسے قتل کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پہلے جس مقام پر تو تھا، وہ مقام اسے مل جائے گا اور اس کی جگہ تو ہو جائے گا جہاں وہ کلمہ حق کہنے سے پہلے تھا۔“