السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: أمان المرأة المسلمة والرجل المسلم حرا كان أو عبدا باب: مسلمان عورت اور مسلمان مرد، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، کی دی گئی امان (پناہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ: ح قَالَ: وَأنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقُطَيْعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَالْأَشْتَرُ، عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَقُلْتُ: هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا دُونَ الْعَامَّةِ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا هَذَا، وَأَخْرَجَ مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ، فَإِذَا فِيهَا: " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ ".حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اور اشتر جمل والے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ میں نے کہا کہ عام عہد کے علاوہ اور کوئی عہد آپ سے نبی ﷺ نے لیا تھا؟ فرمایا: ”نہیں، صرف یہ“ اور اپنی تلوار نکالی اور فرمایا: ”مومنوں کے خون برابر ہیں، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی قبول ہے۔ کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ذمی کو اس کے ذمے میں۔“