حدیث نمبر: 16811
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ بْنِ الْمُسَيِّبِ الضَّبِّيُّ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَعَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَا: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ لِأَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ: أَلَا تَخْرُجُ فَتُقَاتِلَ مَعَنَا؟ فَقَالَ: " إِنَّ أَبِي وَعَمِّي شَهِدَا بَدْرًا، وَإِنَّهُمَا عَهِدَا إِلِيَّ أَنْ لَا أُقَاتِلَ أَحَدًا يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ. فَإِنْ أَنْتَ جِئْتَنِي بِبَرَاءَةٍ مِنَ النَّارِ قَاتَلْتُ مَعَكَ" قَالَ: فَاخْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ

قیس بن ابی حازم اور عامر شعبی رحمہما اللہ کہتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ایمن بن خریم رضی اللہ عنہ کو کہا: ”تم ہمارے ساتھ کیوں نہیں شامل ہو کر لڑتے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میرے والد اور چچا (جو کہ) بدر میں شریک ہوئے (رضی اللہ عنہما)، انہوں نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں کبھی کلمہ پڑھنے والے کے خلاف نہیں لڑوں گا۔ اگر تم مجھے گارنٹی دے دو کہ تم مجھے جہنم سے بچا لو گے تو میں تمہارے ساتھ مل کر لڑتا ہوں۔“ تو مروان نے کہا: ”چلا جا یہاں سے۔“ تو وہ یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکلے: میں کسی نماز پڑھنے والے سے نہیں لڑ سکتا
اس کی تو بادشاہت ہے اور مجھے گناہ ہو
کیا میں کسی مسلمان کو بغیر جرم کے قتل کروں

ایسے سلطان پر کہ دوسرا بھی قریش سے ہو
اللہ کی پناہ ایسی جہالت اور جوش سے
میری پوری زندگی کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16811
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»