السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ زَمَنُ أُخْرِجَ ابْنُ زِيَادٍ، وَثَبَ مَرْوَانُ بِالشَّامِ حَيْثُ وَثَبَ، وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، وَوَثَبَ الَّذِينَ كَانُوا يُدْعَوْنَ الْقُرَّاءَ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: غُمَّ أَبِي غَمًّا شَدِيدًا فَقَالَ: انْطَلِقْ، لَا أَبَا لَكَ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ، فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ فِي ظِلِّ عُلُوٍ لَهُ مِنْ قَصَبٍ فِي يَوْمٍ حَارٍّ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَأَنْشَأَ أَبِي يَسْتَطْعِمُهُ قَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ أَلَا تَرَى؟ قَالَ: فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: " إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللهِ أَنِّي أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَى أَحْيَاءِ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرِيبِ كُنْتُمْ عَلَى الْحَالِ الَّذِي قَدْ عَلِمْتُمْ فِي جَاهِلِيَّتِكُمْ مِنَ الْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَالضَّلَالَةِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَشَكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ بِكُمْ مَا تَرَوْنَ، وَإِنَّ هَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَفْسَدَتْ بَيْنَكُمْ، إِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِالشَّامِ، يَعْنِي مَرْوَانَ، وَاللهِ مَا يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِمَكَّةَ وَاللهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ الَّذِينَ حَوْلَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَهُمْ قُرَّاءَكُمْ، وَاللهِ إِنْ يُقَاتِلُونَ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا " قَالَ: فَلَمَّا لَمْ يَدَعْ أَحَدًا قَالَ لَهُ أَبِي: فَمَا تَأْمُرُنَا إِذًا؟ قَالَ: " إِنِّي لَا أَرَى خَيْرَ النَّاسِ الْيَوْمَ إِلَّا عِصَابَةٌ مُلَبَّدَةٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ: خِمَاصُ الْبُطُونِ مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ، خِفَافُ الظُّهُورِ مِنْ دِمَائِهِمْ " ⦗٣٣٥⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ.ابومنہال کہتے ہیں کہ جب ابن زیاد کا زمانہ تھا تو مروان نے شام میں اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں اور وہ لوگ جنہیں قراء کہا جاتا تھا، انہوں نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تو میرے والد کو بہت دکھ ہوا اور کہنے لگے: اس شخص کے پاس چلو، وہ صحابیِ رسول ہیں۔ وہ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ آپ اپنے گھر میں گرمی کی وجہ سے ایک سائے میں بیٹھے تھے تو ہم بھی بیٹھ گئے، تو میرے والد کہنے لگے: اے ابوبرزہ! کیا آپ نہیں دیکھ رہے؟ تو آپ نے سب سے پہلے یہ بات کہی کہ میں تو اللہ سے اجر چاہتا ہوں، میں تو قریشی سرداروں سے ناراض ہوں۔ اے عرب کے لوگو! تم تو گمراہی و ضلالت اور ذلت کی زندگی گزار رہے تھے، اللہ نے ہمیں اسلام اور محمد ﷺ کی صورت میں بہترین نمونہ دیا۔ اس دنیا نے تمہیں برباد کر دیا، مروان بھی، ابن زبیر رضی اللہ عنہما بھی اور وہ بصرہ کے قراء بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں، تو میرے والد نے پوچھا: تو اب ہم کیا کریں؟ فرمایا: میں تو اب سب سے بہتر اس جماعت کو سمجھتا ہوں جو اپنے گھروں سے چمٹے ہوئے ہیں اور صرف اپنی بھوک پیاس کا خیال ہے اور ان کی پیٹھیں خون کے بوجھ سے ہلکی ہیں۔