السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: النهي عن القتال في الفرقة ومن ترك قتال الفئة الباغية خوفا من أن يكون قتالا في الفرقة باب: تفرقے کی صورت میں قتال کی ممانعت، اور اس شخص کا بیان جس نے اس خوف سے باغی گروہ سے قتال ترک کر دیا کہ کہیں یہ تفرقے والا قتال نہ ہو۔
حدیث نمبر: 16807
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ بَيَانٍ، أَنَّ وَبَرَةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا، أَوْ إِلَيْنَا، عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: حَكِيمٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ تَرَى فِي الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: " هَلْ تَدْرِي الْفِتْنَةَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ؟ كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ، فَكَانَ الدُّخُولُ فِيهِمْ، أَوْ قَالَ: فِي دِينِهِمْ فِتْنَةٌ، وَلَيْسَ بِقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ کوئی بہترین حدیث بیان کریں گے، تو ایک حکیم نامی آدمی کہنے لگا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ میں قتال کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: تیری ماں تجھے گم پائے، فتنہ ہے کیا؟ محمد ﷺ تو مشرکین سے لڑتے تھے اور ان میں (یا فرمایا: ان کے دین میں) داخل ہونا فتنہ تھا، اور یہ تمہاری بادشاہت کے لیے لڑائی جیسا نہیں تھا۔