❮
❯
حدیث نمبر: 16806
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ الرَّزْجَاهِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَا تَسْمَعُ مَا ذَكَرَ اللهُ فِي كِتَابِهِ: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا} [الحجرات: ٩]، فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُقَاتِلَ كَمَا ذَكَرَ اللهُ فِي كِتَابِهِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَعْبُرُ بِهَذِهِ الْآيَةِ وَلَا أُقَاتِلُ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ أَنْ أَعْبُرَ بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَهَا: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: ٩٣] الْآيَةَ، قَالَ: فَإِنَّ اللهَ قَالَ: {قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} [البقرة: ١٩٣]، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " قَدْ فَعَلْنَاهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ كَانَ الْإِسْلَامُ قَلِيلًا وَكَانَ الرَّجُلُ يُفْتَنُ عَنْ دِينِهِ، أَمَّا أَنْ يَقْتُلُوهُ أَوْ يُوْثِقُوهُ حَتَّى ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَلَمْ تَكُنْ فِتْنَةٌ؟ فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لَا يُوَافِقُهُ فِيمَا يُرِيدُ قَالَ: فَمَا قَوْلُكَ فِي عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا عُثْمَانُ فَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْهُ، فَكَرِهْتُمْ أَنْ تَعْفُوا عَنْهُ، وَأَمَّا عَلِيٌّ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَتَنُهُ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ فَقَالَ: هَذَا بَيْتُهُ حَيْثُ تَرَوْنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! کیا آپ نہیں سنتے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ذکر فرمایا ہے: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا﴾ ”اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں“ [سورة الحجرات: 9]، تو آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ اس طرح قتال کریں جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! اس آیت کی وجہ سے مجھ پر عیب لگایا جائے اور میں قتال نہ کروں، یہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ مجھ پر اس آیت کی وجہ سے عیب لگایا جائے جو اللہ عزوجل نے اس سے پہلے فرمائی ہے: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ ”اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ [سورة النساء: 93]۔ اس نے کہا: اللہ نے تو فرمایا ہے: ﴿قَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ ”ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے“ [سورة البقرة: 193]۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ کیا تھا جب اسلام (کے ماننے والے) تھوڑے تھے اور آدمی کو اس کے دین کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا جاتا تھا، یا تو وہ اسے قتل کر دیتے یا اسے باندھ دیتے، یہاں تک کہ اسلام غالب آ گیا اور فتنہ باقی نہ رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ اس کی خواہش کے مطابق اس سے اتفاق نہیں کر رہے تو کہنے لگا: سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رہے عثمان تو اللہ نے انہیں معاف کر دیا، لیکن تمہیں ان کو معاف کرنا ناگوار گزرا، اور رہے علی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا: یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16806