السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: القوم يظهرون رأي الخوارج لم يحل به قتالهم باب: محض خوارج کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے اس قوم سے قتال حلال نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعَ عَلِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَوْمًا يَقُولُونَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، وَلَكِنْ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ، بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ، يَعْمَلُ فِيهِ الْمُؤْمِنُ، وَيَسْتَمْتِعُ فِيهِ الْكَافِرُ، وَيُبَلِّغُ اللهُ فِيهَا الْأَجَلَ.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”حکم صرف اللہ ہی کا ہے“، فرمایا: ہاں ایسے ہی ہے، لیکن لوگوں کے لیے نیک یا بد ایک امیر ضروری ہے، جس میں مومن عمل کریں اور کافر فائدہ اٹھائیں اور اسی میں اللہ اپنا فیصلہ بھیجے۔