السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: القوم يظهرون رأي الخوارج لم يحل به قتالهم باب: محض خوارج کی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے اس قوم سے قتال حلال نہ ہونے کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَلَغَنَا أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ إِذْ سَمِعَ تَحْكِيمًا مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، لَكُمْ عَلَيْنَا ثَلَاثٌ: لَا نَمْنَعُكُمْ مَسَاجِدَ اللهِ أَنْ تَذْكُرُوا فِيهَا ⦗319⦘ اسْمَ اللهِ، وَلَا نَمْنَعُكُمُ الْفَيْءَ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نَبْدَؤُكُمْ بِقِتَالٍ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے مسجد کے ایک کونے سے تحکیم (کا نعرہ) سنا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔““
تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، (یہ) کلمہ حق ہے جس سے باطل مراد لیا گیا ہے، تمہارے ہم پر تین حقوق ہیں: ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے نہیں روکیں گے کہ تم ان میں اللہ کا نام لو، اور جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ ہیں ہم تمہیں مالِ فے سے محروم نہیں کریں گے، اور ہم تم سے لڑائی کی ابتدا نہیں کریں گے۔“
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْجُمُعَةِ، وَعَلِيُّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، ثُمَّ قَامُوا مِنْ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ اجْلِسُوا: نَعَمْ، لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، كَلِمَةٌ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ، حُكْمُ اللهِ نَنْظُرُ فِيكُمْ، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عِنْدِي ثَلَاثَ خِصَالٍ: مَا كُنْتُمْ مَعَنَا لَا نَمْنَعُكُمْ مَسَاجِدَ اللهِ أَنْ تَذْكُرُوا فِيهَا اسْمَ اللهِ، وَلَا نَمْنَعُكُمْ فَيْئًا مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُوا، ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ وَرُوِي بَعْضُ مَعْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.کثیر بن نمیر کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں“، پھر دوسرا کھڑا ہوا اور بہت سے لوگ مسجد کے کونوں سے کھڑے ہو گئے، سب یہی کہہ رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ”اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں“ کلمہ حق ہے اور مراد باطل لی گئی ہے۔
آگے اوپر والی امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت ہے۔