حدیث نمبر: 16737
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ جَهَّزَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُيُوشًا عَلَى بَعْضِهَا شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ، وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَسَارُوا حَتَّى نَزَلُوا الشَّامَ، فَجَمَعَتْ لَهُمُ الرُّومُ جُمُوعًا عَظِيمَةً، فَحُدِّثَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَهُوَ بِالْعِرَاقِ، أَوْ كَتَبَ أَنِ: انْصَرِفْ بِثَلَاثَةِ آلَافِ فَارِسٍ فَأَمِدَّ إِخْوَانَكَ بِالشَّامِ، وَالْعَجَلَ الْعَجَلَ، فَأَقْبَلَ خَالِدٌ مُغِذًّا جَوَادًا، فَاشْتَقَّ الْأَرْضَ بِمَنْ مَعَهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَى ضمير فَوَجَدَ الْمُسْلِمِينَ مُعَسْكِرِينَ بِالْجَابِيَةِ، وَتَسَامَعَ الْأَعْرَابُ الَّذِينَ كَانُوا فِي مَمْلَكَةِ الرُّومِ بِخَالِدٍ فَفَزِعُوا لَهُ، فَفِي ذَلِكَ يَقُولُ قَائِلُهُمْ:.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کچھ لشکر تیار کیے: کسی پر سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ، کسی پر سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور کسی پر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا۔ یہ چلے گئے، یہاں تک کہ شام میں اترے تو رومیوں نے ان کے مقابلے میں بہت بڑی فوج جمع کرلی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو عراق میں تھے کو لکھا کہ شام پہنچو اور اپنے بھائیوں کی مدد کرو اور جلدی کرو، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ متوجہ ہوئے، زمین پر ان کے ساتھ مشقت ہوگئی جو ان کے ساتھ تھے، آپ ضمیر کی طرف نکلے جہاں مسلمان جابیہ سے لڑ رہے تھے اور جو رومی اعراب تھے۔ انھوں نے جب سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں سنا تو گھبرا گئے۔ اس کے بارے میں کسی کہنے والے نے کہا ہے: ”ہائے کاش! ہم گزر جائیں، ابوبکر کے شہسوار سے پہلے ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ بھی نہیں“ اور مبسوط میں امام شافعی رحمہ اللہ سے اس طرح منقول ہے۔
ہائے ہم نے صبح کی فجر کے پھوٹنے سے پہلے
شاید ہماری موت قریب ہے اور ہمیں پتہ ہی نہیں
ہم نے نبی کریم ﷺ کی اطاعت کی ہم ان کے درمیان نہیں تھے
کتنی عجیب بات ہے کہ کیا ہوگیا ہے ابوبکر کی بادشاہت کو
وہ جو انھوں نے تم سے مانگا ہے اور تم نے روک دیا
وہ کھجور کی طرح یا کھجور سے بھی میٹھا ہے ان کے نزدیک
ہم بھی ان کو روکیں گے جب تک ہم میں بقاء ہے
تنگی کی گھڑی میں عزت دار کے یہی لائق ہے
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم نے کفر نہیں کیا، لیکن اپنے مال کے لحاظ سے ہم بخیل ہو گئے ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16737