❮
❯
حدیث نمبر: 16736
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا آَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ} الْآيَةِ كُلِّهَا، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَقَدْ عَلِمَ اللهُ أَنَّهُ سَيَرْتَدُّ مُرْتَدُّونَ مِنَ النَّاسِ، فَلَمَّا قَبَضَ اللهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّ النَّاسُ عَنِ الْإِسْلَامِ، إِلَّا ثَلَاثَةَ مَسَاجِدَ، أَهْلَ الْمَدِينَةِ، وَأَهْلَ مَكَّةَ، وَأَهْلَ جَوَاثَا مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، وَقَالَتِ الْعَرَبُ: أَمَا الصَّلَاةُ فَنُصَلِّي، وَأَمَّا الزَّكَاةُ فَوَاللهِ لَا نُغْصَبُ أَمْوَالَنَا، فَكُلِّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنْهُمْ، وَتُخْلَى عَنْهُمْ، وَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَوْ قَدْ فَقِهُوَا لَأَعْطُوا الزَّكَاةَ طَائِعِينَ، فَأَبَى عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ شَيْءٍ جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا فَرَضَ اللهُ وَرَسُولُهُ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ، فَبَعَثَ اللهُ عَلَيْهِمْ عَصَائِبَ فَقَاتَلُوا عَلَى مَا قَاتَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَقَرُّوا بِالْمَاعُونِ، وَهِيَ الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ، ثُمَّ إِنَّ وَفْدَ الْعَرَبِ قَدِمُوا عَلَيْهِ فَخَيَّرَهُمْ بَيْنَ خُطَّةٍ مُخْزِيَةٍ أَوْ حَرْبٍ مُجْلِيَةٍ، فَاخْتَارُوا الْخُطَّةَ، وَكَانَتْ أَهْوَنَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَشْهَدُوا أَنَّ قَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلَى الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ، وَمَا أَصَابَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا أَصَابُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَدُّوهُ عَلَيْهِمْ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 54] نازل ہوا تو پتا چل گیا کہ کچھ لوگ مرتد بھی ہوں گے۔ جب نبی ﷺ فوت ہو گئے تو لوگ مرتد ہو گئے، علاوہ تین جگہوں ”مسجدوں“ کے اہل، مدینہ، اہل مکہ، اہل جواثا بنو عبدالقیس اہل بحرین سے، عرب کہنے لگے: نماز تو ہم پڑھیں گے، لیکن زکاۃ کے معاملے میں اللہ کی قسم! ہم اپنے مال زبردستی نہیں لینے دیں گے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات کی گئی کہ ان سے درگزر کریں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور ان سے کہا گیا: اگر انہیں سمجھ آ گئی تو یہ خوشی سے زکاۃ دیں گے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! جس چیز کو اللہ نے جمع کیا ہے میں اس میں فرق نہیں کروں گا اور اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی روکا جو اللہ اور اس کے رسول نے فرض کیا ہے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر (مسلمانوں کی) جماعتیں بھیجیں جنہوں نے اس چیز پر لڑائی کی جس پر رسول اللہ ﷺ نے لڑائی کی تھی، یہاں تک کہ یہ لوگ «الْمَاعُونَ» یعنی فرض زکاۃ کا اقرار کر گئے۔ پھر عرب کے وفود آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان کو رسوا کن صلح یا جلاوطن کر دینے والی جنگ میں سے ایک کا اختیار دیا تو انہوں نے صلح کو پسند کر لیا، اور یہ ان پر آسان تھا کہ وہ گواہی دیں کہ ان کے مقتول جہنم میں ہیں اور مسلمانوں کے مقتول جنت میں، اور مسلمانوں نے ان کا جو مال لیا وہ حلال ہے اور انہوں نے مسلمانوں کا جو مال لیا وہ انہیں واپس کریں گے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 16736
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»