السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على السلطان من منع الناس عن النميمة، وترك الأخذ بقول النمام باب: حکمران پر لوگوں کو چغل خوری سے روکنے، اور چغل خور کی بات پر عمل ترک کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
حدیث نمبر: 16677
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْقُفًّا مِنْ أَهْلِ نَجْرَانَ يُكَلِّمُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ احْذَرْ قَاتِلَ الثَّلَاثَةِ، قَالَ عُمَرُ: وَيْلَكَ وَمَا قَاتِلُ الثَّلَاثَةِ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يَأْتِي الْإِمَامَ بِالْكَذِبِ، فَيَقْتُلُ الْإِمَامُ ذَلِكَ الرَّجُلَ بِحَدِيثِ هَذَا الْكَذَّابِ، فَيَكُونُ قَدْ قَتَلَ نَفْسَهُ وَصَاحِبَهُ وَإِمَامَهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اہل نجران کے ایک اسقف (پادری) کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بات کرتے سنا، وہ کہہ رہا تھا: اے امیر المؤمنین! تین کے قاتل سے بچ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین کے قاتل سے کیا مراد ہے؟ کہا: وہ آدمی جو امام کے پاس جھوٹ بولتا ہے تو امام اس آدمی کو قتل کر دیتا ہے کہ جس کے بارے میں اس نے بات کی ہے، تو گویا کہ اس نے اپنے آپ کو، اس آدمی کو اور امام کو قتل کر دیا۔