السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على السلطان من منع الناس عن النميمة، وترك الأخذ بقول النمام باب: حکمران پر لوگوں کو چغل خوری سے روکنے، اور چغل خور کی بات پر عمل ترک کرنے کی ذمہ داری کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خُلَيٍّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا الْكُدَيْمِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هَاشِمٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ زَائِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، قَالَ: فَأَتَاهُ مَالٌ فَقَسَمَهُ، قَالَ: فَسَمِعْتُ رَجُلَيْنِ يَقُولَانِ: إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا لَا يُرِيدُ اللهَ بِهَا وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَ: فَفَهِمْتُ قَوْلَهُمَا ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ كُنْتَ قُلْتَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ "، وَإِنِّي سَمِعْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ وَقَالَ: " دَعْنَا مِنْكَ، فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ ". لَفْظُ حَدِيثِ الْكُدَيْمِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ الْوَهْبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ " لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ، وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ السُّدِّيُّ وَرَوَاهُ أَيْضًا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی میرے صحابہ کی باتیں مجھے نہ بتائے، مجھے یہ محبوب ہے کہ جب میں تم سے رخصت ہوں تو میرا سینہ سالم ہو۔“ وہ کہتے ہیں: مال آیا، آپ ﷺ نے اس کو تقسیم فرمایا تو میں نے دو آدمیوں کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ یہ تقسیم کرنے والا نہ اللہ کی رضا چاہتا ہے اور نہ آخرت کے گھر کو۔ میں نے ان کی بات سنی اور سمجھی اور نبی ﷺ کے پاس آگیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ فرمایا تھا کہ ”میرے صحابہ کی باتیں مجھے نہ بتانا؛ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم سے رخصت ہوں تو میرا سینہ سالم ہو۔“ میں نے فلاں فلاں سے یہ باتیں سنی ہیں تو آپ ﷺ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”یہاں سے اٹھ جاؤ، موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیفیں دی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔“