السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما على من رفع إلى السلطان ما فيه ضرر على مسلم من غير جناية باب: اس شخص پر عائد ہونے والے گناہ و وعید کا بیان جو حکمران تک کسی مسلمان کے خلاف ایسی بات پہنچائے جس سے اسے بغیر کسی جرم کے نقصان پہنچے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ، قَالَ: لَا يَسْمَعَنَّ هَذَا فَيَصِيرُ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنَ، فَأَتَيَاهُ فَسَأَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، وَلَا تُمَشُّوا مُبَرَئٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِتَقْتُلُوهُ أَوْ لِتُهْلِكُوهُ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُوَدُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ "، فَقَبَّلَا يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ⦗٢٨٨⦘ وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُكُمَا مِنِ اتِّبَاعِي؟ " فَقَالَا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخْشَى إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُوَدُ "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً: وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، أَوْ لَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: شَكّ شُعْبَةُ.سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب کے دو آدمیوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا: چلو اس نبی کے پاس چلتے ہیں، (دوسرے نے کہا:) وہ یہ بات نہ سن لے ورنہ (خوشی سے) اس کی چار آنکھیں ہو جائیں گی۔ وہ آئے اور آ کر نو واضح آیات کے بارے میں پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، قتل نہ کرو، چوری، زنا، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ، جنگ سے نہ بھاگو، کسی بے قصور کو سلطان کے پاس نہ لے جاؤ تاکہ وہ اسے قتل کر دے اور اے یہود! تمہارے لیے خاص یہ ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی نہ کرو۔“ تو ان دونوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں آپ نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر تمہیں میری اتباع سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: بے شک داود علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ نبی ان کی اولاد سے ہی ہوں، اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی اتباع کر لیں تو یہود ہمیں قتل کر دیں گے۔