السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: فضل الإمام العادل باب: عادل (انصاف پرور) حکمران کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16655
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ إِنِ اسْتَعْمَلْتُ عَلَيْكُمْ خَيْرَ مَنْ أَعْلَمُ، ثُمَّ أَمَرْتُهُ بِالْعَدْلِ، أَقَضَيْتُ مَا عَلَيَّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَا، حَتَّى أَنْظُرَ فِي عَمَلِهِ، أَعَمِلَ بِمَا أَمَرْتُهُ أَوْ لَا ".حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں کسی کو عامل بناؤں اور اسے عدل کا حکم دوں، کیا میں نے حق ادا کر دیا؟ کہا گیا: جی ہاں۔ فرمایا: نہیں، اس وقت تک نہیں کہ جب تک میں اس کے کام کو نہ دیکھ لوں کہ اس نے میرے حکم پر عمل کیا بھی ہے یا نہیں۔