السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في تنبيه الإمام على من يراه أهلا للخلافة بعده باب: امام کا اس شخص کی طرف اشارہ (تنبیہ) کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان جسے وہ اپنے بعد خلافت کا اہل سمجھتا ہو۔
حدیث نمبر: 16593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَالْقَاضِي أَبُو الْهَيْثَمِ عُتْبَةُ بْنُ خَيْثَمَةَ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍِ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنّ سَعِيدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ، ⦗٢٦٥⦘ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ مِنْهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يُونُسَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ: ”میں نے خواب میں ایک کنواں دیکھا جس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس سے اللہ کی مشیت کے مطابق پانی نکالا۔ پھر ابن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما نے ایک یا دو ڈول نکالے، لیکن ان کے نکالنے میں ضعف تھا، اللہ انہیں معاف فرمائے۔ پھر وہ ڈول حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پکڑا تو میں نے ان جیسا با کمال آدمی نہیں دیکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے۔“