السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: ما جاء في تنبيه الإمام على من يراه أهلا للخلافة بعده باب: امام کا اس شخص کی طرف اشارہ (تنبیہ) کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان جسے وہ اپنے بعد خلافت کا اہل سمجھتا ہو۔
حدیث نمبر: 16592
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، حِينَ تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِهِ فِي مَسِيرِهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا؟ "، ثُمَّ قَالَ: " أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: رَسُولُ اللهِ بَعْدَكُمْ، لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ، وَقَالَ النَّاسُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، وَإِنْ تُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ تَرْشُدُوا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ ایک سفر میں اپنے صحابہ سے پیچھے رہ گئے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے لوگوں نے کیا کیا ہو گا؟“ پھر فرمایا: ”لوگوں نے صبح کی تو اپنے نبی کو غیر موجود پایا، تو ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) نے کہا: رسول اللہ تمہارے پیچھے ہیں، وہ تمہیں پیچھے چھوڑنے والے نہیں، اور لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ تمہارے آگے ہیں۔ اگر وہ ابوبکر اور عمر کی اطاعت کریں گے تو ہدایت پا جائیں گے۔“