السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الأئمة من قريش باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16546
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ: أَنْتُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ مَا كُنْتُمْ مَعَ الْحَقِّ، إِلَّا أَنْ تَعْدِلُوا عَنْهُ فَتُلْحَوْنَ كَمَا تُلْحَى هَذِهِ الْجَرِيدَةُ " يُشِيرُ إِلَى جَرِيدَةٍ بِيَدِهِ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قریش کے لیے فرمایا: ”تم لوگوں میں امارت کے زیادہ حق دار ہو جب تک تم حق کے ساتھ رہو گے، مگر یہ کہ تم اس سے ہٹ جاؤ تو تمہیں اس طرح چھیل دیا جائے گا جیسے یہ جریدہ (کھجور کی ٹہنی) چھیلی جاتی ہے۔“ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ میں جریدے کی طرف اشارہ فرمایا۔