السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے قتال کا بیان
باب: الأئمة من قريش باب: ائمہ (حکمرانوں) کا قبیلہ قریش میں سے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16541
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ، ثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَهْلٍ، عَنْ بُكَيْرٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتٍ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يُوَسِّعُ لَهُ يَرْجُو أَنْ يَجْلِسَ إِلَى جَنْبِهِ، فَقَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَقَالَ: " الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَلِي عَلَيْكُمْ حَقٌّ عَظِيمٌ، وَلَهُمْ مِثْلُهُم مَا فَعَلُوا ثَلَاثًا: إِذَا اسْتُرْحِمُوا وَرَحَمُوا، وَحَكَمُوا فَعَدَلُوا، وَعَاهَدُوا فَوَفَوْا. فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَهْلٍ، يُكَنَّى أَبَا أَسَدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ سَهْلٍ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي الْأَسَدِ، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَلِيٍّ أَبِي الْأَسَدِ، وَهُوَ وَاهِمٌ فِيهِ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ وَمِسْعَرٌ، وَهُوَ سَهْلٌ الْقَرَارِيّ /٦٣ ُ مِنْ بَنِي قَرَارٍ يُكَنَّى أَبَا أَسَدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے؛ ہم ایک گھر میں مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک شخص اپنے پہلو میں جگہ بنانے لگا تاکہ نبی ﷺ اس کے ساتھ بیٹھیں، لیکن آپ ﷺ دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”ائمہ قریش ہی سے ہوں گے، جس طرح میرا تم پر بڑا حق ہے اسی طرح ان کا بھی ہے، جب تک وہ تین کام کریں: جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، فیصلہ کریں تو عدل کریں، اور عہد کریں تو پورا کریں۔ ان میں سے جو ایسا نہ کرے اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“