السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ باب: قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ: قَالَ لِيَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً} فِي جَدِّكَ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَفِي الْحَارِثِ بْنِ زَيْدٍ أَخِي بَنِي مَعِيصٍ، كَانَ يُؤْذِيهِمْ بِمَكَّةَ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ، فَلَمَّا هَاجَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ أَسْلَمَ الْحَارِثُ وَلَمْ يَعْلَمُوا بِإِسْلَامِهِ، فَأَقْبَلَ مُهَاجِرًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرَةِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لَقِيَهُ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَلَا يَظُنُّ إِلَّا أَنَّهُ عَلَى شِرْكِهِ، فَعَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِ {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢] يَقُولُ: تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَلَا يَرُدُّ الدِّيَةِ إِلَى أَهْلِ الشِّرْكِ عَلَى قُرَيْشٍ، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ} [النساء: ٩٢] يَقُولُ: مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ} [النساء: ٩٢].عبدالرحمن بن حارث بن عبداللہ بن عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے قاسم بن محمد بن ابی بکر رحمہ اللہ نے بتایا کہ آیت ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ﴾ [سورة النساء: 92] تمہارے دادا عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن زید بنو معیص کے بھائی رضی اللہ عنہما کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ مکہ میں شرک کی حالت میں ایذا دیا کرتا تھا۔ جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے ہجرت کی تو حارث رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گیا، لیکن مسلمانوں کو اس کے اسلام کا علم نہیں تھا۔ یہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچا، ابھی بنو عمرو بن عوف کے پاس پہنچا تھا کہ عیاش رضی اللہ عنہ راستے میں مل گیا، وہ اسے مشرک ہی سمجھتا تھا، تلوار لی اور قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ مومنہ گردن آزاد کر دو اور اگر اس کے ورثا دشمن قوم سے ہوں اور یہ خود مومن ہو تو اس کی دیت انہیں نہ دو۔