السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ باب: قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16472
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى أُنَاسٍ مِنْ خَثْعَمَ، فَاعْتَصَمُوا بِالسُّجُودِ فَقَتَلَهُمْ، فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الدِّيَةِ، ثُمَّ قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ " قَوْلُهُ: فَوَدَاهُمْ، أَظْهَرُ فِي أَنَّهُ أَعْطَاهُ مُتَطَوِّعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف بھیجا، انہوں نے سجدوں کے ذریعے اپنے آپ کو بچانا چاہا لیکن انہوں نے انہیں قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی نصف دیت ادا فرمائی، پھر فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرک کے ساتھ رہتا ہے۔“
راوی کا قول «فَوَدَاهُمْ» (آپ ﷺ نے ان کی دیت ادا کی) اس بات میں زیادہ واضح ہے کہ آپ ﷺ نے یہ تطوعاً دی تھی۔