السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسامة— قسامت کا بیان
جماع أبواب كفارة القتل -- باب: ما جاء في وجوب الكفارة في أنواع قتل الخطأ باب: قتل کے کفارے کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: مختلف اقسام کے قتلِ خطا میں کفارہ واجب ہونے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16474
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢]، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَرْجِعُ، إِلَى قَوْمِهِ فَيَكُونُ فِيهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ فَيُصِيبُهُ الْمُسْلِمُونَ خَطَأً فِي سَرِيَّةٍ، أَوْ غَزَاةٍ فَيُعْتِقُ الرَّجُلُ رَقَبَةً، {وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ} [النساء: ٩٢]، قَالَ: يَكُونُ الرَّجُلُ مُعَاهِدًا، وَقَوْمُهُ أَهْلَ عَهْدٍ، فَيُسَلَّمُ إِلَيْهِمْ دِيَتُهُ، وَأَعْتَقَ الَّذِي أَصَابَهُ رَقَبَةً وَفِي تَفْسِيرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا الْمَعْنَى، قَالَ: وَإِنْ كَانَ فِي أَهْلِ الْحَرْبِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَقَتَلَهُ خَطَأً، فَعَلَى قَاتِلِهِ أَنْ يُكَفِّرَ وَلَا دِيَةَ عَلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ﴾ [سورة النساء: 92]، فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی نبی ﷺ کے پاس آتا مسلمان ہو کر اپنی قوم میں واپس چلا جاتا۔ پھر مسلمان اگر اس کی مشرک قوم پر حملہ کرتے تو وہ بھی اگر مارا جاتا تو اس کے بدلے کفارے کے طور پر ایک غلام آزاد کر دیتے اور یہ فرمان ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ﴾ [سورة النساء: 92] الی ﴿رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ [سورة النساء: 92] کہ جب کسی ایسی قوم کا آدمی ہوتا جن سے معاہدہ ہوتا تو انھیں دیت بھی دی جاتی اور گردن بھی آزاد کی جاتی۔