السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : لا تحمل العاقلة ما جنى الرجل على نفسه باب: انسان اپنے اوپر جو جنایت (جرم) کرے اس کا بوجھ عاقلہ نہیں اٹھائے گی۔
حدیث نمبر: 16392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ أَحْمَدُ: كَذَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ هُوَ وَعَنْبَسَةُ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، قَالَ أَحْمَدُ: وَالصَّوَابُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ وَشَكُّوا فِيهِ، رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنًا لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ بِمِثْلِ ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبُوا، مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن میرا بھائی بڑی بہادری سے لڑا، اپنی ہی تلوار اسے لگی اور وہ شہید ہو گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ بات آپ ﷺ کو بتائی کہ یہ اپنے ہی اسلحے سے قتل ہوا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مجاہد جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا ہے۔“
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹوں سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد سے اسی طرح بیان کیا، یہ بھی بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”لوگ غلط کہتے ہیں، وہ مجاہد جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا، اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔“