السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: : لا تحمل العاقلة ما جنى الرجل على نفسه باب: انسان اپنے اوپر جو جنایت (جرم) کرے اس کا بوجھ عاقلہ نہیں اٹھائے گی۔
حدیث نمبر: 16393
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا الْوَلِيدُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَغَرْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ جُهَيْنَةَ، فَطَلَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا مِنْهُمْ فَضَرَبَهُ فَأَخْطَأَهُ وَأَصَابَ نَفْسَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخُوكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ " فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَوَجَدُوهُ قَدْ مَاتَ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابِهِ وَدِمَائِهِ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَفَنَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَشَهِيدٌ هُوَ؟ قَالَ: " نَعَمْ " وَأَنَا لَهُ شَهِيدٌ.حافظ ثناء اللہ
ابو سلام رحمہ اللہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر حملہ کیا تو ایک مسلمان ایک کافر کے پیچھے دوڑا اور اسے تلوار ماری، اسے تو نہ لگی لیکن خود کو لگ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا بھائی کہاں ہے اے مسلمانو!“ لوگوں نے تلاش کیا تو وہ شہید ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے کپڑوں اور خون سمیت اس کا جنازہ پڑھایا اور اسے دفن فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا: کیا یہ شہید ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور میں اس پر گواہ ہوں۔“