السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: من قال: لا تحمل العاقلة عمدا ولا عبدا ولا صلحا ولا اعترافا باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک عاقلہ قتلِ عمد، غلام، صلح اور اعترافِ جرم کی دیت کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
حدیث نمبر: 16363
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَاقِلَةَ لَا تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلَّا أَنْ تُعِينَهُ الْعَاقِلَةُ عَنْ طِيبِ النَّفْسِ قَالَ مَالِكٌ: وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ يَحْيَى: وَلَمْ أُدْرِكِ النَّاسَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت گزر چکی ہے کہ قتلِ عمد میں عاقلہ رشتے داروں پر کوئی دیت نہیں ہے، ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے ادا کرنا چاہیں۔ یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو اسی مؤقف پر پایا ہے۔