السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: من قال: لا تحمل العاقلة عمدا ولا عبدا ولا صلحا ولا اعترافا باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک عاقلہ قتلِ عمد، غلام، صلح اور اعترافِ جرم کی دیت کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
حدیث نمبر: 16364
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: لَا تَحْمِلُ الْعَاقِلَةُ مَا كَانَ عَمْدًا، وَلَا بِصُلْحٍ، وَلَا اعْتِرَافٍ، وَلَا مَا جَنَى الْمَمْلُوكُ، إِلَّا أَنْ يُحِبُّوا ذَلِكَ طَوْلًا مِنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
ابوزناد فقہائے مدینہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عاقلہ رشتے داروں پر قتلِ عمد، صلح، اعتراف یا غلام کے جرم کا بوجھ نہیں ہے؛ ہاں اگر وہ خوشی سے کرنا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔