السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: من قال: لا تحمل العاقلة عمدا ولا عبدا ولا صلحا ولا اعترافا باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک عاقلہ قتلِ عمد، غلام، صلح اور اعترافِ جرم کی دیت کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
حدیث نمبر: 16362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ مِنْ قَتْلِ الْعَمْدِ إِلَّا أَنْ تَشَاءَ ذَلِكَ، إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ الْخَطَأِ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ عاقلہ رشتے دار پر قتلِ عمد میں دیت نہیں ہے، الا یہ کہ وہ چاہیں، ان پر قتلِ خطا میں دیت ہے۔