السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المستحاضة تغسل عنها أثر الدم وتغتسل وتستثفر بثوب وتصلي ثم تتوضأ لكل صلاة باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1636
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ: " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ " ⦗٥١٣⦘ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَهُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ لَا دُخُولَ وَقْتٍ أَوْ خُرُوجَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے، کھانا آپ ﷺ کے قریب لایا گیا، صحابہ نے آپ کو پانی پیش کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وضو کا حکم تب دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں۔“ ابوبکر کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خبر دی کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انہیں وضو کا حکم دیا جب نماز کے لیے کھڑے ہوں نہ کہ (نماز کے) دخول کے وقت اور نہ خروج کے وقت۔