السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: المستحاضة تغسل عنها أثر الدم وتغتسل وتستثفر بثوب وتصلي ثم تتوضأ لكل صلاة باب: مستحاضہ خون کا اثر دھو لے گی، غسل کرے گی، کپڑے کا لنگوٹ کس کر باندھے گی اور نماز پڑھے گی پھر ہر نماز کے لیے وضو کرے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 1622
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَعْدٍ الْمَرْثَدِيُّ ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتَفْتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: " ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ أَثَرَ الدَّمِ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي فَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ وَفِي حَدِيثِ خَلَفٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي" وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَفِ بْنِ هِشَامٍ دُونَ قَوْلِهِ: وَتَوَضَّئِي وَكَأَنَّهُ ضَعَّفَهُ لِمُخَالَفَتِهِ سَائِرَ الرُّوَاةِ، عَنْ هِشَامٍ وَرَوَاهُ أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ إِلَّا أَنَّهُ أَرْسَلَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْكُرْ عَائِشَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں استحاضہ والی ہوں، میں پاک نہیں ہوتی، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایک رگ ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو اپنے جسم سے خون دھو، وضو کر اور نماز پڑھ، یہ ایک رگ سے ہے، حیض نہیں ہے۔“
ایک روایت میں ہے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ سے خون دھو، وضو کر اور نماز پڑھ۔“