السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: أسنان دية العمد إذا زال فيه القصاص، وأنها حالة في مال القاتل باب: جب قتلِ عمد میں قصاص ختم ہو جائے تو اس کی دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں، اور اس بات کا بیان کہ وہ دیت فوری طور پر قاتل کے مال میں سے ادا کی جائے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ، حَذَفَ ابْنَهُ بِسَيْفٍ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنَزَّى فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَعْدِدْ لِي عَلَى قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ ⦗١٢٧⦘ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ فَقَالَ: هَا أَنَذَا، فَقَالَ: خُذْهَا دِيَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ ".عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو مدلج کا ایک شخص جس کا نام قتادہ تھا، اس نے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، وہ پنڈلی پر لگی، زخم گہرا تھا اور وہ مر گیا تو سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”١٢٠ اونٹ لاؤ دیت کے لیے۔“ وہ لائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں میں سے ٣٠ «حِقَّة» ”حقے“، ٣٠ «جَذَعَة» ”جذعے“ اور ٤٠ وہ جن کے پیٹوں میں اولاد تھی لیے اور پوچھا: ”مقتول کا بھائی کہاں ہے؟“ وہ کہنے لگا: میں ہوں، تو فرمایا: ”دیت لے لو۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ: ”قاتل کے لیے کچھ نہیں ہے۔“”