السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: أسنان دية العمد إذا زال فيه القصاص، وأنها حالة في مال القاتل باب: جب قتلِ عمد میں قصاص ختم ہو جائے تو اس کی دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں، اور اس بات کا بیان کہ وہ دیت فوری طور پر قاتل کے مال میں سے ادا کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ تَرْعَى غَنَمَهُ، فَبَعَثَهَا يَوْمًا تَرْعَاهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ مِنْهَا: حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمِي أُمِّي، وَاللهِ لَا تَسْتَأْمِيهَا أَكْثَرَ مِمَّا اسْتَأْمَيْتَهَا فَأَصَابَ عُرْقُوبَهُ فَطُعِنَ فِي خَاصِرَتِهِ فَمَاتَ قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: وَائْتِنِي مِنْ قَابِلٍ وَمَعَكَ أَرْبَعُونَ، أَوْ قَالَ: عِشْرُونَ وَمِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ: فَفَعَلَ، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَةٌ، فَأَعْطَاهَا إِخْوَتَهُ، وَلَمْ يُوَرِّثْ مِنْهَا أَبَاهُ شَيْئًا، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُقَادُ وَالِدٌ بِوَلَدٍ لَقَتَلْتُكَ، أَوْ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ ".عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ قتادہ بن عبداللہ کی ایک لونڈی تھی جو بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب وہ بکریاں چرانے گئی تو قتادہ کا بیٹا جو اس لونڈی سے تھا کہنے لگا: کب تک تو میری ماں کو لونڈی بنائے رکھے گا؟ اللہ کی قسم! اب تو میری ماں کو اس سے زیادہ لونڈی نہیں بنا سکتا، تو قتادہ نے اسے مارا جو اس کی ایڑی کے پٹھے پر لگا اور اس کے پہلو میں زخم آیا اور وہ مر گیا، سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اگلے سال میرے پاس چالیس، یا فرمایا: 120 اونٹ لے کر آنا، انہوں نے ایسا کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے تیس «حِقَّة» ”حقے“، تیس «جَذَعَة» ”جذعے“ اور چالیس وہ جن کے پیٹ میں اولاد تھی لیے اور اس کے بھائیوں کو دے دیے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ ”والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ تو میں تجھے قتل کر دیتا یا تیری گردن مار دیتا۔