حدیث نمبر: 16140
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ تَرْعَى غَنَمَهُ، فَبَعَثَهَا يَوْمًا تَرْعَاهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ مِنْهَا: حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمِي أُمِّي، وَاللهِ لَا تَسْتَأْمِيهَا أَكْثَرَ مِمَّا اسْتَأْمَيْتَهَا فَأَصَابَ عُرْقُوبَهُ فَطُعِنَ فِي خَاصِرَتِهِ فَمَاتَ قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: وَائْتِنِي مِنْ قَابِلٍ وَمَعَكَ أَرْبَعُونَ، أَوْ قَالَ: عِشْرُونَ وَمِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ: فَفَعَلَ، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَةٌ، فَأَعْطَاهَا إِخْوَتَهُ، وَلَمْ يُوَرِّثْ مِنْهَا أَبَاهُ شَيْئًا، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُقَادُ وَالِدٌ بِوَلَدٍ لَقَتَلْتُكَ، أَوْ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ ".
حافظ ثناء اللہ

قتادہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی تھی جو بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب وہ بکریاں چرانے گئی تو قتادہ کا بیٹا جو اس لونڈی سے تھا کہنے لگا: کب سے تو نے میری ماں کو لونڈی بنایا ہے؟ اب تو میری ماں کو لونڈی نہیں بنا سکتا، اسے اس کا غصہ لگا تو قتادہ نے اس کے پہلو میں کوئی چیز ماری وہ مر گیا، سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس 120 اونٹ لاؤ، وہ لائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے تیس «حِقَّة» ”حقے“، تیس «جَذَعَة» ”جذعے“ اور چالیس وہ جن کے پیٹ میں اولاد تھی لیے اور اس کے بھائیوں کو دے دیے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ ”والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ تو میں تجھے قتل کر دیتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16140
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ ضعيف۔ و الرفوع»