کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب قتلِ عمد میں قصاص ختم ہو جائے تو اس کی دیت میں دیے جانے والے اونٹوں کی عمروں، اور اس بات کا بیان کہ وہ دیت فوری طور پر قاتل کے مال میں سے ادا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 16139
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَمْدًا دُفِعَ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءَ قَتَلَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الدِّيَةَ، وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً، وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً، وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ، وَمَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ، وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
یہ (حدیث) نمبر (١٦١٢٩) کے تحت پہلے گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 16140
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّقْرِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ عَبْدِ اللهِ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ تَرْعَى غَنَمَهُ، فَبَعَثَهَا يَوْمًا تَرْعَاهَا، فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ مِنْهَا: حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمِي أُمِّي، وَاللهِ لَا تَسْتَأْمِيهَا أَكْثَرَ مِمَّا اسْتَأْمَيْتَهَا فَأَصَابَ عُرْقُوبَهُ فَطُعِنَ فِي خَاصِرَتِهِ فَمَاتَ قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: وَائْتِنِي مِنْ قَابِلٍ وَمَعَكَ أَرْبَعُونَ، أَوْ قَالَ: عِشْرُونَ وَمِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ: فَفَعَلَ، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْهَا ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ مَا بَيْنَ ثَنِيَّةٍ إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَةٌ، فَأَعْطَاهَا إِخْوَتَهُ، وَلَمْ يُوَرِّثْ مِنْهَا أَبَاهُ شَيْئًا، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُقَادُ وَالِدٌ بِوَلَدٍ لَقَتَلْتُكَ، أَوْ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی تھی جو بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب وہ بکریاں چرانے گئی تو قتادہ کا بیٹا جو اس لونڈی سے تھا کہنے لگا: کب سے تو نے میری ماں کو لونڈی بنایا ہے؟ اب تو میری ماں کو لونڈی نہیں بنا سکتا، اسے اس کا غصہ لگا تو قتادہ نے اس کے پہلو میں کوئی چیز ماری وہ مر گیا، سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس 120 اونٹ لاؤ، وہ لائے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے تیس «حِقَّة» ”حقے“، تیس «جَذَعَة» ”جذعے“ اور چالیس وہ جن کے پیٹ میں اولاد تھی لیے اور اس کے بھائیوں کو دے دیے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ ”والد کو بیٹے کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ تو میں تجھے قتل کر دیتا۔
حدیث نمبر: 16141
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، يُقَالُ لَهُ: قَتَادَةُ، حَذَفَ ابْنَهُ بِسَيْفٍ فَأَصَابَ سَاقَهُ فَنَزَّى فِي جُرْحِهِ فَمَاتَ، فَقَدِمَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَعْدِدْ لِي عَلَى قُدَيْدٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ بَعِيرٍ حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَذَ مِنْ تِلْكَ ⦗١٢٧⦘ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ أَخُو الْمَقْتُولِ؟ فَقَالَ: هَا أَنَذَا، فَقَالَ: خُذْهَا دِيَةً، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو مدلج کا ایک شخص جس کا نام قتادہ تھا، اس نے اپنے بیٹے کو تلوار سے مارا، وہ پنڈلی پر لگی، زخم گہرا تھا اور وہ مر گیا تو سیدنا سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”١٢٠ اونٹ لاؤ دیت کے لیے۔“ وہ لائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان اونٹوں میں سے ٣٠ «حِقَّة» ”حقے“، ٣٠ «جَذَعَة» ”جذعے“ اور ٤٠ وہ جن کے پیٹوں میں اولاد تھی لیے اور پوچھا: ”مقتول کا بھائی کہاں ہے؟“ وہ کہنے لگا: میں ہوں، تو فرمایا: ”دیت لے لو۔ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ: ”قاتل کے لیے کچھ نہیں ہے۔“”