السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما لا قصاص فيه باب: جن صورتوں میں قصاص واجب نہیں ہوتا، ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ ابْنُ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، فَذَكَرَهُ قَالَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى: اخْتَلَفَ فِيهِ ابْنُ شُبْرُمَةَ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ: أَنَا أُقِيدُ، وَقَالَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى: لَا أَعْرِفُ، لَعَلَّهَا تَكُونُ شَدِيدَةً فَيُلْطَمُ دُونَهَا، وَتَكُونُ دُونَهَا فَيُلْطَمُ أَشَدَّ مِنْهَا قَالَ الشَّيْخُ: فُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ عَلَى أَنْ لَا قَوَدَ فِيهَا لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ} [البقرة: ١٧٩]، وَالْقِصَاصُ هُوَ الْمُسَاوَاةُ وَالْمُمَاثَلَةُ، وَاعْتِبَارُ الْمُسَاوَاةِ فِيمَا بَيْنَ اللَّطْمَتَيْنِ مُتَعَذِّرٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِّينَا فِي بَابِ قَتْلِ الْإِمَامِ وَجَرْحِهِ مَا يُوهِمُ وُجُوبَ الْقِصَاصِ فِي الضَّرْبِ بِالْخَشَبَةِ وَالسَّوْطِ، وَذَلِكَ مَحْمُولٌ عِنْدَهُمْ عَلَى حُصُولِ شَجَّةٍ، أَوْ جُرْحٍ بِهَا يُمْكِنُ اعْتِبَارُ الْمُمَاثَلَةِ فِيهَا، فَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَخْبَارِ، أَوْ يَكُونُ مَحْمُولًا عَلَى أَنَّهُ رَأَى تَعْزِيرَهُ بِأَنْ يَفْعَلَ بِهِ مِنْ جِنْسِ فِعْلِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سفیان رحمہ اللہ بروایت یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں ابن شبرمہ رحمہ اللہ اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ابن شبرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں قصاص لوں گا اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا۔ شاید کہ آپ اس میں سخت ہیں، اس کے علاوہ تھپڑ مارا جائے اور دوسرا پہلے سے بھی زیادہ سخت تھپڑ مار دے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقہاء امصار فرماتے ہیں کہ اس میں قصاص نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ [سورة البقرة: 179] اور قصاص مساوات اور مماثلت کا نام ہے اور دو تھپڑوں میں مساوات ممکن نہیں۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ خوب جاننے والا ہے“
اور اس باب میں کہ امام کا قتل یا زخمی کرنا کہ جس میں وجوب قصاص کا وہم ہو لکڑی یا کوڑے سے مارنے میں ہم روایت بیان کرچکے ہیں۔ ہم اس کو اس پر محمول کریں گے کہ یہ اس زخم میں ہے جس میں مماثلت کا اعتبار ممکن ہو اور بعض احادیث میں بھی یہ بات آتی ہے یا ہم اس کو اس بات پر محمول کریں گے کہ انہوں نے اس کی تقریر کی رائے یہ رکھی ہے کہ اس جیسا فعل کیا جائے۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ خوب جاننے والا ہے“