حدیث نمبر: 16097
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا أُقِيدُ مِنَ الْعِظَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہڈی میں قصاص نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 16098
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا كَسَرَ فَخِذَ رَجُلٍ فَخَاصَمَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقِدْنِي قَالَ: لَيْسَ لَكَ الْقَوَدُ، إِنَّمَا لَكَ الْعَقْلُ قَالَ الرَّجُلُ: فَاسْمَعْنِي كَالْأَرْقَمِ إِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ، وَإِنْ يُتْرَكْ يَلْقَمْ قَالَ: فَأَنْتَ كَالْأَرْقَمِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک شخص کی ران توڑ دی۔ جھگڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! مجھے قصاص لے کر دو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے قصاص نہیں دیت ملے گی، تو وہ آدمی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے چتکبرے سانپ کی طرح کر دیا ہے کہ اگر اسے مارا جائے تو وہ انتقام لیتا ہے، چھوڑا جائے تو کاٹتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو چتکبرے سانپ کی طرح ہی ہے۔
حدیث نمبر: 16099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي ⦗١١٤⦘ أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: الْقَوَدُ بَيْنَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ كَسْرٍ أَوْ جَرْحٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَا قَوَدَ فِي مَأْمُومَةٍ، وَلَا جَائِفَةٍ، وَلَا مُتْلِفٍ كَائِنًا مَا كَانَ وَقَالَ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: الْفَخِذُ مِنَ الْمَتَالِفِ وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسَانِيدَ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فقہائے مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہر ٹوٹ پھوٹ اور زخم میں قصاص ہے، ہاں! سر کے زخم، پیٹ کے زخم اور وہ زخم جو تلف کرنے والا ہو اس میں قصاص نہیں، دیت ہے اور عیسیٰ رحمہ اللہ اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ ران زخم میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 16100
مِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ يَحْيَى، وَعِيسَى ابْنَيْ طَلْحَةَ أَوْ أَحَدِهِمَا، عَنْ طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْمَأْمُومَةِ قَوَدٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”سر کے زخم میں قصاص نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 16101
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ، وَلَا الْجَائِفَةِ، وَلَا الْمُنَقِّلَةِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عام سر کا زخم اور پیٹ کا زخم اور وہ سر کا زخم جس میں ہڈی کے ذرات برآمد ہوں، ان میں قصاص نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 16102
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَرَجِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ الْعِجْلِيِّ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا بِالسَّيْفِ عَلَى سَاعِدِهِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُرِيدُ الْقِصَاصَ قَالَ لَهُ: " خُذِ الدِّيَةَ، بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا "، وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ.
حافظ ثناء اللہ
نمران بن جاریہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو پر مارا، ہڈی تو بچ گئی، لیکن وہ زخمی ہو گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے دیت کا حکم دے دیا۔ وہ شخص کہنے لگا: مجھے قصاص چاہیے تو آپ ﷺ نے فرمایا: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيْهَا، خُذِ الدِّيَةَ» ”اللہ تجھے اس میں برکت دے، دیت لے لو۔“ اور آپ ﷺ نے اسے قصاص نہیں دلوایا۔
حدیث نمبر: 16103
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ طَاوُسٍ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا طَلَاقَ قَبْلَ مِلْكٍ، وَلَا قِصَاصَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنَ الْجِرَاحَاتِ " هَذَا مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ملکیت سے پہلے طلاق نہیں ہے اور واضح زخم کے علاوہ میں قصاص نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 16104
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ خَالِدًا، أَقَادَ مِنْ لَطْمَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
طارق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے تھپڑ کا بھی قصاص لیا۔
حدیث نمبر: 16105
قَالَ: وَثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، أَقَادَ مِنْ لَطْمَةٍ قَالَ أَحْمَدُ: هَكَذَا فِي كِتَابِي، وَرَوَاهُ الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے تھپڑ کا بھی قصاص لیا۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری کتاب میں بھی اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 16106
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ ابْنُ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، فَذَكَرَهُ قَالَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى: اخْتَلَفَ فِيهِ ابْنُ شُبْرُمَةَ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ: أَنَا أُقِيدُ، وَقَالَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى: لَا أَعْرِفُ، لَعَلَّهَا تَكُونُ شَدِيدَةً فَيُلْطَمُ دُونَهَا، وَتَكُونُ دُونَهَا فَيُلْطَمُ أَشَدَّ مِنْهَا قَالَ الشَّيْخُ: فُقَهَاءُ الْأَمْصَارِ عَلَى أَنْ لَا قَوَدَ فِيهَا لِقَوْلِ اللهِ تَعَالَى: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ} [البقرة: ١٧٩]، وَالْقِصَاصُ هُوَ الْمُسَاوَاةُ وَالْمُمَاثَلَةُ، وَاعْتِبَارُ الْمُسَاوَاةِ فِيمَا بَيْنَ اللَّطْمَتَيْنِ مُتَعَذِّرٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِّينَا فِي بَابِ قَتْلِ الْإِمَامِ وَجَرْحِهِ مَا يُوهِمُ وُجُوبَ الْقِصَاصِ فِي الضَّرْبِ بِالْخَشَبَةِ وَالسَّوْطِ، وَذَلِكَ مَحْمُولٌ عِنْدَهُمْ عَلَى حُصُولِ شَجَّةٍ، أَوْ جُرْحٍ بِهَا يُمْكِنُ اعْتِبَارُ الْمُمَاثَلَةِ فِيهَا، فَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَخْبَارِ، أَوْ يَكُونُ مَحْمُولًا عَلَى أَنَّهُ رَأَى تَعْزِيرَهُ بِأَنْ يَفْعَلَ بِهِ مِنْ جِنْسِ فِعْلِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ بروایت یحییٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں ابن شبرمہ رحمہ اللہ اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ابن شبرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں قصاص لوں گا اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا۔ شاید کہ آپ اس میں سخت ہیں، اس کے علاوہ تھپڑ مارا جائے اور دوسرا پہلے سے بھی زیادہ سخت تھپڑ مار دے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقہاء امصار فرماتے ہیں کہ اس میں قصاص نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ [سورة البقرة: 179] اور قصاص مساوات اور مماثلت کا نام ہے اور دو تھپڑوں میں مساوات ممکن نہیں۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ خوب جاننے والا ہے“
اور اس باب میں کہ امام کا قتل یا زخمی کرنا کہ جس میں وجوب قصاص کا وہم ہو لکڑی یا کوڑے سے مارنے میں ہم روایت بیان کرچکے ہیں۔ ہم اس کو اس پر محمول کریں گے کہ یہ اس زخم میں ہے جس میں مماثلت کا اعتبار ممکن ہو اور بعض احادیث میں بھی یہ بات آتی ہے یا ہم اس کو اس بات پر محمول کریں گے کہ انہوں نے اس کی تقریر کی رائے یہ رکھی ہے کہ اس جیسا فعل کیا جائے۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ خوب جاننے والا ہے“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فقہاء امصار فرماتے ہیں کہ اس میں قصاص نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ [سورة البقرة: 179] اور قصاص مساوات اور مماثلت کا نام ہے اور دو تھپڑوں میں مساوات ممکن نہیں۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ خوب جاننے والا ہے“
اور اس باب میں کہ امام کا قتل یا زخمی کرنا کہ جس میں وجوب قصاص کا وہم ہو لکڑی یا کوڑے سے مارنے میں ہم روایت بیان کرچکے ہیں۔ ہم اس کو اس پر محمول کریں گے کہ یہ اس زخم میں ہے جس میں مماثلت کا اعتبار ممکن ہو اور بعض احادیث میں بھی یہ بات آتی ہے یا ہم اس کو اس بات پر محمول کریں گے کہ انہوں نے اس کی تقریر کی رائے یہ رکھی ہے کہ اس جیسا فعل کیا جائے۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اور اللہ خوب جاننے والا ہے“