السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الاستثناء بالقصاص من الجرح والقطع باب: زخم لگانے اور اعضاء کاٹنے کے قصاص میں استثناء کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16107
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ⦗١١٦⦘ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقِيدُ، فَقَالَ لَهُ: " حَتَّى تَبْرَأَ " وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَلِيٍّ الْحَافِظِ: فَقِيلَ لَهُ: حَتَّى تَبْرَأَ قَالَ: فَأَبَى، وَعَجَّلَ فَاسْتَقَادَ، فَعَتِبَتْ رِجْلُهُ وَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ، إِنَّكَ أَبَيْتَ،.حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے گھٹنے میں سینگ مار دیا، وہ شخص قصاص کے لیے نبی ﷺ کے پاس آگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہو جاؤ پھر آنا۔“ اس نے انکار کیا اور فوراً قصاص کا مطالبہ کیا۔ اسے قصاص لے دیا گیا تو جس سے قصاص لیا تھا اس کا گھٹنا صحیح ہو گیا اور اس کا نہ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیرے انکار کی وجہ سے ہے۔“