السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما لا قصاص فيه باب: جن صورتوں میں قصاص واجب نہیں ہوتا، ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 16099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي ⦗١١٤⦘ أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: الْقَوَدُ بَيْنَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ كَسْرٍ أَوْ جَرْحٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَا قَوَدَ فِي مَأْمُومَةٍ، وَلَا جَائِفَةٍ، وَلَا مُتْلِفٍ كَائِنًا مَا كَانَ وَقَالَ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: وَكَانُوا يَقُولُونَ: الْفَخِذُ مِنَ الْمَتَالِفِ وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسَانِيدَ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهَا.حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فقہائے مدینہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہر ٹوٹ پھوٹ اور زخم میں قصاص ہے، ہاں! سر کے زخم، پیٹ کے زخم اور وہ زخم جو تلف کرنے والا ہو اس میں قصاص نہیں، دیت ہے اور عیسیٰ رحمہ اللہ اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ ران زخم میں سے ہے۔