السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما لا قصاص فيه باب: جن صورتوں میں قصاص واجب نہیں ہوتا، ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 16098
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَجُلًا كَسَرَ فَخِذَ رَجُلٍ فَخَاصَمَهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَقِدْنِي قَالَ: لَيْسَ لَكَ الْقَوَدُ، إِنَّمَا لَكَ الْعَقْلُ قَالَ الرَّجُلُ: فَاسْمَعْنِي كَالْأَرْقَمِ إِنْ يُقْتَلْ يَنْقَمْ، وَإِنْ يُتْرَكْ يَلْقَمْ قَالَ: فَأَنْتَ كَالْأَرْقَمِ.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک شخص کی ران توڑ دی۔ جھگڑا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ کہنے لگا: اے امیر المومنین! مجھے قصاص لے کر دو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے قصاص نہیں دیت ملے گی، تو وہ آدمی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے چتکبرے سانپ کی طرح کر دیا ہے کہ اگر اسے مارا جائے تو وہ انتقام لیتا ہے، چھوڑا جائے تو کاٹتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو چتکبرے سانپ کی طرح ہی ہے۔