السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: الولي لا يستبد بالقصاص دون الإمام باب: مقتول کا وارث امام (حکمران کی اجازت) کے بغیر خود مختار ہو کر قصاص نہیں لے سکتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ} [البقرة: ١٩٤]، وَقَوْلِهِ: {وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ} [الشورى: ٤١]، وَقَوْلِهِ: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ} [النحل: ١٢٦]، وَقَوْلِهِ: {وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا} [الشورى: ٤٠]، فَهَذَا وَنَحْوُهُ نَزَلَ بِمَكَّةَ، وَالْمُسْلِمُونَ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ، لَيْسَ لَهُمْ سُلْطَانٌ يَقْهَرُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَتَعَاطَوْنَهُمْ بِالشَّتْمِ وَالْأَذَى، فَأَمَرَ اللهُ ⦗١٠٨⦘ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يُجَازِي مِنْهُمْ أَنْ يُجَازُوا بِمِثْلِ الَّذِي أَتَى إِلَيْهِ، أَوْ يَصْبِرُوا وَيَعْفُوا فَهُوَ أَمْثَلُ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَعَزَّ اللهُ سُلْطَانَهُ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْتَهُوا فِي مَظَالِمِهِمْ إِلَى سُلْطَانِهِمْ، وَلَا يَعْدُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ كَأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا} [الإسراء: ٣٣]، يَقُولُ: يَنْصُرُهُ السُّلْطَانُ حَتَّى يُنْصِفَهُ مِنْ ظَالِمِهِ، وَمَنِ انْتَصَرَ لِنَفْسِهِ دُونَ السُّلْطَانِ فَهُوَ عَاصٍ مُسْرِفٌ قَدْ عَمِلَ بِحَمِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ وَلَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ اللهِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ﴾ [سورة البقرة: 194] اور اس فرمان ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولٰٓئِکَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیلٍ﴾ [سورة الشورى: 41] اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ﴾ [سورة النحل: 126] اور یہ فرمان ﴿وَجَزَاءُ سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ [سورة الشورى: 40]، ان آیات اور ان جیسی دوسری آیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئیں اور مکہ میں مسلمان تھوڑے تھے، ان کا کوئی امام نہیں تھا جو انہیں مشرکین کی تکالیف سے نجات دلاتا، تو مسلمانوں کو بھی حکم تھا کہ مشرکین جیسی تکلیف تمہیں دیں ویسا بدلہ تم خود اسے دو یا صبر کرتے ہوئے درگزر کر دو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ہجرت کی تو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت کے ساتھ عزت بخشی تو مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ آپس کے معاملات اپنے بادشاہ کے سامنے لاؤ اور جاہلوں کی طرح ایک دوسرے کے دشمن نہ بنو، فرمایا: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلَا یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ اِنَّهُ کَانَ مَنْصُورًا﴾ [سورة الإسراء: 33] سلطان اس کی مدد کرے، ظالم سے انصاف دلائے اور جو بادشاہ کے بغیر اپنا فیصلہ خود کرلے وہ نافرمان ہے، اسراف کرنے والا ہے اور جاہلیت کا کام کرنے والا ہے جو اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہوا۔