السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: الولي لا يستبد بالقصاص دون الإمام باب: مقتول کا وارث امام (حکمران کی اجازت) کے بغیر خود مختار ہو کر قصاص نہیں لے سکتا۔
حدیث نمبر: 16079
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ فِي رَجُلٍ قَدَرَ عَلَى قَاتِلِ أَخِيهِ: أَعَلَيْهِ حَرَجٌ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ إِنْ خَافَ أَنْ يَفُوتَهُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ بِهِ إِلَى الْإِمَامِ، إِنْ هُوَ قَتَلَهُ؟ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لَا يُغْتَصَبَ فِي قَتْلِ النُّفُوسِ دُونَ الْإِمَامِ وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الَّتِي وُطِئَتْ مُسْتَكْرَهَةً، حَيْثُ كَتَبَ إِلَى الْآفَاقِ: أَنْ لَا تَقْتُلُوا أَحَدًا إِلَّا بِإِذْنِي.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو اپنے بھائی کے قاتل کو پکڑ لے اور امام کے پاس لانے سے پہلے اس سے قصاص لے لے کہ سنت یہی ہے کہ نفوس کے قتل میں امام کے حکم کے بغیر غضب کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ہمیں ایک روایت نقل کی گئی کہ انہوں نے اپنے عاملوں کی طرف یہ لکھا تھا کہ کسی کو میرے حکم کے بغیر قتل نہ کیا جائے۔