السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ميراث الدم والعقل باب: قصاص (خون) اور دیت کی وراثت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16063
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أًبُو دَاوُدُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُرَيْحٍ الْكَعْبِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: بَيْنَ أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ، وَبَيْنَ أَنْ يَقْتُلُوا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے خزاعہ کے نوجوانو! تم نے ہذیل کا یہ جو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کر رہا ہوں۔ جس نے میری اس بات کے بعد اگر کوئی قتل کیا تو اس کے اہل دو معاملوں میں سے ایک کے اختیار کے حامل ہوں گے، چاہے دیت لے لیں یا پھر قتل کر دیں۔“