السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في قتل الغيلة في عفو الأولياء باب: دھوکے سے قتل کرنے (قتلِ غیلہ) میں مقتول کے ورثاء کے معاف کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16062
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغِلَانِيُّ، وَهُوَ يَذْكُرُ مَنْ عُرِفَ بِالنِّفَاقِ فِي عَهْدِ ⦗١٠٢⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ صَامِتٍ، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ الْمِجْذَرَ يَوْمَ أُحُدٍ، غِيلَةً فَقَتَلَهُ بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
مفضل بن غسان غلابی رحمہ اللہ ان منافقین کے بارے میں فرماتے ہیں جو نفاق کے ساتھ عہدِ رسالت میں مشہور تھے کہ حارث بن سوید، جو بنی عمرو بن عوف سے تھا اور (احد) میں شریک ہوا، اس نے مجذر رضی اللہ عنہ کو احد کے دن قتل کیا تو اسے بھی نبی ﷺ نے قصاصاً قتل کر دیا۔