السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في قتل الغيلة في عفو الأولياء باب: دھوکے سے قتل کرنے (قتلِ غیلہ) میں مقتول کے ورثاء کے معاف کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " مَنْ عَفَا مِنْ ذِي سَهْمٍ فَعَفْوُهُ عَفْوٌ قَدْ أَجَازَ عُمَرُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الْعَفْوَ مِنْ أَحَدِ الْأَوْلِيَاءِ، وَلَمْ يَسْأَلَا أَقَتْلَ غِيلَةٍ كَانَ ذَلِكَ أَمْ غَيْرَهُ؟ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ الرَّجُلَ مِنْ غَيْرِ نَائِرَةٍ هُوَ إِلَى الْإِمَامِ لَا يَنْتَظِرُ بِهِ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ، قَالَ: وَاحْتَجَّ لَهُمْ بَعْضُ مَنْ يَعْرِفُ مَذَاهِبَهُمْ بِأَثَرِ مِجْذَرِ بْنِ ⦗١٠١⦘ زِيَادٍ، وَلَوْ كَانَ حَدِيثُهُ مِمَّا يَثْبُتُ قُلْنَا بِهِ، فَإِنْ ثَبَتَ فَهُوَ كَمَا قَالُوا، وَلَا أَعْرِفُهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ثَابِتًا، وَإِنْ لَمْ يَثْبُتْ فَكُلُّ مَقْتُولٍ قَتَلَهُ غَيْرُ الْمُحَارِبِ فَالْقَتْلُ فِيهِ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ مِنْ قِبَلِ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا} [الإسراء: ٣٣]، وَقَالَ: {فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ١٧٨] قَالَ الشَّيْخُ: إِنَّمَا بَلَغَنَا قِصَّةُ مِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، مِنْ حَدِيثِ الْوَاقِدِيِّ مُنْقَطِعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ.حماد، ابراہیم سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے ذی سہم سے درگزر کر دیا تو اس کا معاف کرنا معافی ہے۔ عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کی اجازت دی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے بعض اصحاب اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو دوسرے شخص کو بغیر بغض کے قتل کر دے کہ وہ امام کی طرف ہے۔ وہ ولی مقتول کا بھی انتظار نہ کرے اور انہوں نے دلیل مجذر بن زیاد والے واقعہ سے لی ہے۔ اگر یہ روایت ثابت ہو تب یہ بات ہے، ورنہ آج تک مجھے نہیں پتا چلا کہ یہ روایت بھی ثابت ہے اور اس کو ولی مقتول کی طرف لوٹانا اللہ کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا﴾ [سورة الإسراء: 33] ”کہ جو مظلوم قتل کیا جائے تو اس کا ولی اس کی جگہ سلطان ہے۔“
اور فرمایا: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 178]
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ پتا چلا ہے کہ قصہ مجذر بن زیاد جو حدیثِ واقدی سے ہے منقطع اور ضعیف ہے۔