حدیث نمبر: 16059
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الصُّبْحِ وَفِي يَدِهِ دِرَّتُهُ يُوقِظُ بِهَا النَّاسَ، فَضَرَبَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَطْعِمُوهُ وَاسْقُوهُ وَأَحْسِنُوا إِسَارَهُ، فَإِنْ عِشْتُ فَأَنَا وَلِيُّ دَمِي، أَعْفُو إِنْ شِئْتُ، وَإِنْ شِئْتُ اسْتَقَدْتُ.حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کے وقت اپنا کوڑا لے کر نکلتے جس سے لوگوں کو بیدار کرتے۔ ابن ملجم نے آپ کو مارا تو آپ نے فرمایا: ”اسے کھلاؤ پلاؤ اور اچھے قیدی کی طرح اسے رکھو۔ اگر میں زندہ رہا تو میں اپنے خون کا خود ولی ہوں، چاہے اسے معاف کر دوں چاہے اس سے قصاص لوں۔“