السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: لا عقوبة على كل من كان عليه قصاص فعفي عنه في دم ولا جرح باب: جس پر جان یا زخم کا قصاص واجب ہو اور اسے معاف کر دیا جائے تو اس پر کوئی (مزید) سزا نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16058
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، قَالَا: سُئِلَ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ رَجُلٍ يَضْرِبُ الْآخَرَ بِالسَّيْفِ فِي غَضِبٍ، مَا يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: قَدْ ضَرَبَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الضُّرُوبَ فَلَمْ يَقْطَعْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو غصے میں دوسرے کو تلوار سے مارتا ہے تو اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟ فرمایا: صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مارا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا تھا۔