السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ هَارُونَ السِّمَّرِيُّ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عُمَرَ الْعَائِذِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ الْقَاتِلِ يُقَادُ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: " أَتَعْفُو؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَتَقْتُلُهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ فَتَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَهُ: " تَعَالَ أَتَعْفُو؟ " مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ، فَقَالَ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ مِثْلَ قَوْلِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ: " أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ " قَالَ: فَتَرَكَهُ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، وَقَالَ فِيهِ يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عَوْفٍ: " يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ.علقمہ بن وائل اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، ایک قاتل کو لایا گیا جس سے قصاص طلب کیا گیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولیوں سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم دیت لینا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ۔“ جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے انہیں دوبارہ بلایا اور پھر معافی اور دیت کا پوچھا تو انہوں نے وہی جواب دیا، تین مرتبہ ایسا ہوا تو آپ ﷺ نے چوتھی مرتبہ ارشاد فرمایا: ”اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ تیرے اور تیرے صاحب کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے تسمے کو گھسیٹ رہا تھا۔ اور یحییٰ قطان رحمہ اللہ نے فرمایا: ”وہ اس کے اور تیرے صاحب کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔“