السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْفَامِيُّ الْفَقِيهُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ قَالَ: إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا، فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ أَخِي فَقَتَلَهُ، قَالَ: " اعْفُ عَنْهُ " فَأَبَى، قَالَ: " فَخُذِ الدِّيَةَ " قَالَ: مَا أُرِيدُ الدِّيَةَ قَالَ: فَأَعَادَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: " اعْفُ عَنْهُ " فَأَبَى، قَالَ: " خُذِ الدِّيَةَ " فَأَبَى، فَأَعَادَ الْحَدِيثَ قَالَ: " اعْفُ عَنْهُ "، فَأَبَى، فَقَالَ: " خُذِ الدِّيَةَ " فَأَبَى، فَلَمَّا أَبَى إِلَّا أَنْ يَقْتُلَ قَالَ: " أَمَا إِنَّكَ إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ "، قَالَ: فَأَصْنَعُ مَاذَا؟ قَالَ: " تَعْفُو عَنْهُ " قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انھیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ ایک شخص کو لایا گیا، اس کے گلے میں تسمہ باندھا ہوا تھا، جب وہ آپ ﷺ کے پاس آ گئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ اور میرا بھائی ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھایا اور میرے بھائی کے سر پر مارا اور اسے قتل کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو۔“ انھوں نے انکار کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دیت لے لو۔“ کہنے لگا: مجھے دیت بھی نہیں چاہیے، پھر آپ ﷺ نے معافی اور دیت کا کہا تو اس نے انکار کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تو بھی اسی جیسا ہو جائے گا۔“ تو وہ کہنے لگا: پھر میں کیا کروں؟ فرمایا: ”معاف کر دے۔“ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ وہ اسے اس کے تسمے سے پکڑ کر واپس لے جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔