السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا ابْنُ شُعَيْبٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ دَقَّ سِنَّ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَاسْتَعْدَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِمُعَاوِيَةَ: إِنَّ هَذَا دَقَّ سِنِّي، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَلَّا، إِنَّا سَنُرْضِيكَ قَالَ: وَأَلَحَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَأَكَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى أَبْرَمَهُ، فَقَالَ: شَأْنَكَ بِصَاحِبِكَ قَالَ: وَأَبُو الدَّرْدَاءِ جَالِسٌ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِشَيْءٍ فِي جَسَدِهِ فَيَصَّدَّقُ بِهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهِ خَطِيئَةً " فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: فَإِنِّي أَدَعُهَا لِلَّهِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا جَرَمَ، وَاللهِ لَا تَخِيبُ، وَأَمَرَ لَهُ بِمَالٍ.ابوسفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص نے ایک انصاری کے دانت توڑ دیے۔ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ انصاری کہنے لگا: اس نے میرے دانت توڑ دیے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہرگز نہیں۔ آپ کو راضی کریں گے، ہم تو، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو قابو کر کے دبوچا اور فرمایا: اب لے لو بدلہ۔ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے پاس بیٹھے تھے، فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس مسلمان کو بھی کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اسے صدقہ کرتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بلند فرماتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔“
وہ انصاری سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے عرض کرنے لگا کہ کیا آپ نے خود یہ نبی ﷺ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں، میرے کانوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد کیا ہے، تو وہ انصاری کہنے لگا: میں اسے اللہ کے لیے معاف کرتا ہوں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کوئی حرج نہیں، لیکن تجھے بھی ایسے نہیں چھوڑا جائے گا اور اسے مال دینے کا حکم دیا۔