السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَزْرَةُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ ابْنُ أَبِي الْحُنَيْنِ: سَعْدَوَيْهِ: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا، يَعْنِي فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ، فَانْطَلَقَ بِهِ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " فَأَتَى رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى عَنْهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ فَأَبَى أَنْ يَعْفُوَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ كَذَا رَوَاهُ هُشَيْمٌ، ⦗٩٨⦘ وَرَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَقَالَ فِيهِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ أَشْوَعَ فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ فَقَالَ حَبِيبٌ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَمَرَهُ بِالْعَفْوِ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَتَلَ أَخِي فَهُوَ فِي النَّارِ، فَإِنْ قَتَلْتُهُ فَأَنَا مِثْلُهُ؟ قَالَ: قَتَلَ أَخَاكَ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَأَمَرْتُكَ فَعَصَيْتَنِي فَأَنْتَ فِي النَّارِ إِنْ عَصَيْتَنِي وَقَدْ قِيلَ: إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْقَاتِلَ قَالَ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، وَذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ: فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ وَأَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ فَأَنْتَ مِثْلُهُ وَالَّذِي قَالَهُ حَبِيبٌ أَوِ ابْنُ أَشْوَعَ بَيِّنٌ.علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس لایا گیا تاکہ اس سے قصاص لیا جائے، اس کی گردن میں ایک تسمہ تھا جس سے اسے کھینچا جا رہا تھا۔ جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔“ تو ایک شخص اس آدمی سے ملا اور اسے نبی ﷺ کی بات بتائی تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ اسماعیل فرماتے ہیں: میں نے یہ بات حبیب بن ابی ثابت کو بتائی۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ابن اشوع نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم معاف کرتے ہو؟“ اس نے انکار کر دیا تھا۔
اور صحیح مسلم میں اسماعیل سے منقول ہے کہ میں نے ابن اشوع سے کہا تو ابن اشوع نے فرمایا: میں نے یہ بات حبیب کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اسے معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے نبی ﷺ سے مرسل بیان کیا ہے کہ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میرے بھائی کو قتل کر دیا، وہ جہنم میں ہے، اگر میں اسے قتل کر دوں تو کیا میں بھی اس جیسا ہوں گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے بھائی کو قتل کیا وہ جہنمی ہے اور اگر تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی تو تو بھی جہنم میں جائے گا۔“
اور ایک قول یہ بھی ہے یہ اس وجہ سے فرمایا: کیونکہ قاتل نے یہ کہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ سچا ہے اور تو نے اسے قتل کر دیا اور تو جانتا بھی ہے کہ وہ سچا ہے تو تو بھی اس جیسا ہو جائے گا۔