السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَتَلْتَهُ؟ " فَقَالَ: " إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ " قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ: " كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟ " قَالَ: كُنْتُ وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟ " قَالَ: مَا لِيَ مَالٌ إِلَّا كِسَائِي، قَالَ: " فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟ " قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ: " دُونَكَ صَاحِبَكَ " فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ: " إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ " وَمَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ؟ " قَالَ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ: " فَإِنَّ ذَلِكَ كَذَاكَ " قَالَ: فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيِّ.علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں ان کے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جو دوسرے سے قصاص کا طالب تھا، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر وہ اعتراف نہ کرے تو میں اس پر گواہ قائم کرتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیسے قتل کیا؟“ تو جواب دیا کہ ہم دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا میں نے اس کے سر پر ڈنڈا مارا اور وہ مر گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے پاس دیت دینے کے لیے کچھ ہے؟“ کہا: یہ میری چادر ہے۔ فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم کے لوگ تجھے خرید لیں گے؟“ کہا: میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔ آپ ﷺ نے اس کا تسمہ اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا اور فرمایا: ”لے جاؤ اسے اور قصاص لے لو“، اس نے پکڑا اور چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اسے یہ قتل کر دے گا تو یہ بھی اس جیسا ہو گا“۔ تو قوم کا ایک شخص اس سے ملا اور اسے نبی ﷺ کی بات پہنچائی۔ وہ شخص پھر نبی ﷺ کے پاس آ گیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا تھا اور اب آپ کی یہ بات پتہ چلی ہے، تو فرمایا: ”ہاں، کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے گناہ اور تیرے بھائی کے گناہ معاف کر دیے جائیں؟“ کہنے لگا: کیوں نہیں اے اللہ کے نبی! تو فرمایا: ”پھر ایسے ہی ہو گا“، تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔