السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَوَادُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لِي: " يَا سَوَادُ بْنَ عَمْرٍو وخَلُوقُ وَرْسٍ، أَوَ لَمْ أَنْهَ عَنِ الْخَلُوقِ؟ "، وَنَخَسَنِي بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ فِي بَطْنِي فَأَوْجَعَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْقِصَاصَ قَالَ: " الْقِصَاصَ" فَكَشَفَ لِي عَنْ بَطْنِهِ فَجَعَلْتُ أُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدَعُهُ شَفَاعَةً لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَابَعَهُ عُمَرُ بْنُ سَلِيطٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سواد بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے خلوق (خوشبو) لگائی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سواد! کیا اس خلوق سے میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟“ تو آپ ﷺ نے ایک چھڑی سے مارا جو آپ کے ہاتھ میں تھی تو میرا پیٹ زخمی ہو گیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قصاص۔ آپ ﷺ نے بھی اپنا پیٹ کھول دیا تو میں آپ کے پیٹ پر بوسے لینے لگا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت چاہتا ہوں۔