السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في قتل الإمام وجرحه باب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، وَغَيْرِهِ أَخْبَرُوهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُتَخَلِّقًا فَطَعَنَهُ بِقَدَحٍ كَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ: " أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ مِثْلِ هَذَا؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، وَإِنَّكَ قَدْ عَقَرْتَنِي فَأَلْقَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَقَالَ لَهُ: " اسْتَقِدْ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ طَعَنْتَنِي وَلَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ، وَعَلَيْكَ قَمِيصٌ، فَكَشَفَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَطْنِهِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَبَّلَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.ابو النضر اور ان کے دوسرے اصحاب رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زعفران کی خوشبو لگائی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اسے ایک لکڑی سے مارا اور فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟“ وہ شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اور آپ نے مجھے زخم پہنچایا ہے، آپ ﷺ نے وہ لکڑی اسے دی اور فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ وہ شخص کہنے لگا: آپ ﷺ نے جب مجھے مارا تھا مجھ پر کپڑا نہیں تھا اور آپ پر قمیص ہے، آپ ﷺ نے پیٹ سے اپنا کپڑا ہٹا لیا تو وہ شخص آپ ﷺ سے چمٹ گیا اور آپ ﷺ کا بوسہ لیا۔
یہ روایت منقطع ہے، اور یہ موصولاً بھی روایت کی گئی ہے۔